مواد

مزاحمت کے قائد اور علمبردار


Aug 14 2021
مزاحمت کے قائد اور علمبردار
داعش نے قابض صیہونی حکومت، سعودی عرب اور امریکہ کی حمایت سے عراق کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا اور کربلا کے قریب تک پیشقدمی کر لی۔ اس پیش قدمی کے نتیجہ میں آیت اللہ سیستانی نے جہاد کا اعلان کیا اور سپاہ کی قدس فورس کی مدد سے حشدالشعبی تشکیل دی گئی اور اسے ترقی ملی۔
اس راستہ میں عراقی عوام نے ہوشیاری سے کام لیا اور وہ منظم ہو گئے اور حاج قاسم اپنی امداد کے ذریعہ داعشی تکفیریوں کو عراقی فوجیوں اور حشد الشعبی تنظیم کے نتیجہ میں نابود کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ حاج قاسم کا خطاب جس میں انہوں نے کہا کہ چند مہینوں میں آپ کو داعش کا کوئی اثر نہیں ملے گا یہ خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے شکست کا اعلان تھا۔ حاج قاسم ایک ایسی تحریک کو نابود کرنے میں کامیاب ہوئے
جسے امریکیوں نے صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر اور سعودی عرب کی مالی امداد سے آغاز کیا تھا۔ تا کہ اس طریقے سے وہ مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی ایجاد کر سکیں۔ امریکی، حاج قاسم کو شہید کرنے پر مجبور ہوگئے کیونکہ وہ بہت بڑے ہیرو تھے جو اس سازش کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوئے۔ داعش نے بالکل ان ہی نقاط کو نشانہ بنایا تھا جو انقلاب کی کامیابی کے بعد کئی سال امریکہ اور قابض صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت کا محور رہے
یعنی شام اور عراق۔ ان کا اگلا مقصد ایران تھا جو خطے میں استکبار کے خلاف مزاحمت کا محور ہے۔ان کی تمام پالیسیوں کو جنرل سلیمانی نے شکست سے دوچار کیا۔ جیسا کہ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ حاج قاسم مزاحمت کے سید الشہداء تھے۔ وہ مزاحمت کے قائد اور علمبردار تھے۔ امریکیوں نے سردار سلیمانی کو بزدلانہ طریقے سے قتل کرکے خطے میں اپنی شکستوں کو دور کرنے کی کوشش کی لیکن نہ صرف وہ کامیاب نہیں ہوسکے بلکہ انہیں ایک اور شکست بھی ملی اور وہ عراق سے امریکی فوجوں کے انخلاء کا اعلان ہے اور لبنان، عراق، شام، یمن، فلسطین اور افغانستان میں کوئی جگہ بھی امریکی افواج اور پنٹاگون کے لئے محفوظ نہیں ہے۔


نظری برای این مطلب ثبت نشده است.

رائے

ارسال نظر برای این مطلب