مواد

مغربی مبصرین کا ردعمل


Jan 18 2021
مغربی مبصرین کا ردعمل
ایرانی میزائل حملوں پر مغربی مبصرین کا ردعمل
سپاہ پاسداران انقلاب کی جانب سے عراق میں واقع امریکی فوجی اڈے کو میزائلوں سے نشانہ بنائے جانے کے بعد دفاعی ماہرین اور مبصرین سوشل میڈیا پر حملے کے بارے میں باریک بینی سے تبصرے کررہے ہیں۔ روس سے تعلق رکھنے والے دفاعی تجزیہ نگار دارا مسیکوٹ نے عین الاسد پر حملوں اور فضا سے لی گئی تصاویر کی روشنی میں نقصانات کا اندازہ لگانے کے بعد ٹوئیٹر پر لکھا ہے کہ ایرانی حملہ انتہائی باریک بینی سے کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ میں ایران کے بارے زیادہ نہیں جانتا ہوں لیکن ایک دفاعی تجزیہ نگار کی حیثیت سے عین الاسد پر میزائل  کے نشانات کو دیکھتا ہوں تو بعض لوگوں کے خیال کے برعکس مجھے علامتی حملے کے آثار نظر نہیں آتے۔ یہ بات واضح ہے کہ ایرانی حملے میں امریکی دفاعی طاقت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرون اسٹائن نے خود کو امریکی میگزین فارن پالیسی کا ایڈیٹر ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ بات کسی بیان کی محتاج نہیں کہ ایران نے ہدف کو نشانہ بنانے میں کوئی غلطی نہیں کی۔ مغربی دفاعی امور کے ماہر جیفری لوئیس نے ٹوئیٹر پر لکھا ہے کہ ایران نے کوئی خطا نہیں کی ہے۔ حملے میں عمارتوں کو مکمل دقت کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔
ٹوئیٹر کے ایک صارف نے حملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران نے عین الاسد کو براہ راست نشانہ بنایا ہے جس سے شدید نقصان ہوا ہے۔ مختلف اہداف کو پہنچنے والے نقصانات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ میزائل اپنے ہدف سے دس میٹر سے زیادہ فاصلے پر نہیں گرے تھے۔ مذکورہ صارف نے حملے کو علامتی قرار دینے کی نفی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حملوں کے دوران فوجی اڈے پر اپاچی ہیلی کاپٹر، فضائی نگرانی کرنے والے یو2 اور دیگر طیارے بھی موجود تھے۔ انہوں نے تصاویر کی مدد سے ان تنصیبات کی نشاندہی بھی کی ہے۔
یاد رہے کہ  غیر جانب دار مبصرین کے ان تبصروں کے باوجود صدر ٹرمپ اصرار کررہے ہیں کہ دفاعی تنصیبات اور فوجیوں کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے بدھ کے روز پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ بغداد میں جنرل قاسم سلیمانی پر ہونے والے حملے کے بعد ایران کے جوابی حملے میں کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں ہوا ہے۔
 


نظری برای این مطلب ثبت نشده است.

رائے

ارسال نظر برای این مطلب