مواد

شہید سلیمانی مزاحمتی محاذ کے “مردِ میدان” تھے


Oct 27 2021
شہید سلیمانی مزاحمتی محاذ کے “مردِ میدان” تھے
 اپنے سفارتی مشن کے دوران بغداد ایئرپورٹ سے نکلتے ہوئے دہشتگردانہ امریکی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن کر شہید ہونے والے ایرانی سپاہ قدس کے سابق کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی، ان کے میزبان عراقی حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس اور رفقاء کی  ایک عوامی تقریب منعقد کی گئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل اسمعیل قاآنی نے تاکید کی ہے کہ جیسا کہ شہید سلیمانی کو ہمارے عظیم پیشوا رہبر معظم انقلاب نے 3 پُر افتخار تمغے عنایت کئے ہیں؛ وہ نہ صرف ایرانی قوم کے بلکہ امتِ مسلمہ کے بھی ہیرو ہیں! ایک ایسے ہیرو جنہوں نے استکباری طاقتوں کو شکست فاش سے دوچار کر دیا!
کمانڈر سپاہ قدس نے اپنے خطاب کے دوران شہید قاسم سلیمانی کی مزاحمتی شخصیت کے حوالے سے جوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام جوان جو شہید سلیمانی کو اپنے لئے نمونۂ عمل قرار دینا چاہتے ہیں، غور سے سنیں کہ شہید سلیمانی مزاحمتی محاذ کے “مردِ میدان” تھے، تاہم انہوں نے یہ مزاحمت خود اپنے اندر سے شروع کی تھی! کیونکہ جو بھی اس میدان میں اترنا چاہتا ہو تو اُس کے لئے باہر کی دنیا کے سامنے مزاحمت کا کوئی رَستہ موجود نہیں مگر یہ کہ وہ اپنے اندر مزاحمت کرنے کی خوب مشق کرچکا ہو!! جنرل اسمعیل قاآنی نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی اپنے باطن میں ماہر مزاحمتکار تھے، البتہ اس حوالے سے کہنے کو بہت باتیں موجود ہیں جبکہ اس باب میں ان کی معرفت، عبادت، اخلاص، ایثار اور تمام انسانی و اسلامی اقدار بھی شامل ہو جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید قاسم سلیمانی کی راہ ایک خاص حکمت عملی پر استوار تھی جبکہ شہید سلیمانی کی عظمت کا راز یہ ہے کہ وہ رہبر معظم کی پیروی میں قدم اٹھاتے تھے جبکہ اسی راہ میں وہ پروان بھی چڑھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ (شہید کے جانے کے بعد بھی) نہ صرف وہ رہبر اور ان کا رَستہ موجود ہے بلکہ مظلومین و محرومین کی حمایت اور عزت مندانہ مزاحمتی زندگی کے لئے اُن کی تربیت کا عمل بھی تاحال جاری و ساری ہے۔ شہید سلیمانی کے جانشین نے نوجوان نسل کو مخاطب کیا اور فلسطینی مزاحمتی محاذ کی مشترکہ فوجی مشقوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ آج فلسطین میں ایسی ممتاز شخصیات کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جو اس عظیم شہید کی برسی کے موقع پر فوجی مشقیں منعقد کر رہی ہیں اور وہ بھی ایک ایسے علاقے میں جہاں کسی وقت میں کوئی ایک عدد گولی بھی چلا نہیں پاتا تھا!
جنرل اسمعیل قاآنی نے لبنانی مزاحمتی محاذ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسری طرف آپ لبنان میں ایک ایسے علمدار کو ملاحظہ کر رہے ہیں، جس کے ایک سپاہی کو غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے شہید کیا گیا تھا، تاہم اس کی ایک دھمکی کے باعث گذشتہ 3 ماہ سے لبنان کے ساتھ ساتھ غاصب صیہونی رژیم کے شمالی محاذ پر دن رات کوئی ایک (صیہونی) فوجی بھی نظر نہیں آتا، جس کی اصلی وجہ اُن پر طاری ہو جانے والا اس سپہ سالار کا خوف ہے! انہوں نے تمام شہداء کو یاد کرتے ہوئے خصوصاً شہید قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس و رفقاء کا نام لے کر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ شہید قاسم سلیمانی نہ صرف ایرانی قوم کے بلکہ امتِ مسلمہ کے بھی ہیرو ہیں؛ ایک ایسے ہیرو کہ جنہوں نے استکباری طاقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ سپاہ قدس کے کمانڈر نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی مردِ میدان تھے، جس کی اصلی وجہ ان کا “ولایت کا مطیعِ محض” ہونا تھا جبکہ ولایت پر کاربند رہنا اور اس کے اعلیٰ و ارفع مقام کو دل و جان سے قبول کرنا شہید کی زندگی کی بنیاد میں شامل تھا۔
جنرل اسمعیل قاآنی نے دشمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ قدس اور اسلامی مزاحمتی محاذ کا رَستہ امریکی شرارتوں کے باعث تبدیل ہونے والا نہیں جبکہ عین ممکن ہے کہ تمہارے جرائم کا جواب خود تمہارے ہی گھر کے اندر سے دے دیا جائے۔ سپاہ قدس کے کمانڈر نے تاکید کی کہ وہ جو اس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، جان لیں کہ ان کی اس حرکت کے باعث آج، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے پوری دنیا میں ہر جگہ لوگ بالکل تیار ہیں! انہوں نے کہا کہ میں واضح انداز میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا رستہ وہی رستہ ہے اور جان لو کہ عین ممکن ہے کہ تمہارے گھر کے اندر سے ہی ایسے لوگ اُٹھ کھڑے ہوں، جو تمہارے اس جرم کا بھرپور جواب دے دیں!


نظری برای این مطلب ثبت نشده است.

رائے

ارسال نظر برای این مطلب