مواد

سردار سلیمانی عاشقِ خدا


Feb 06 2023
سردار سلیمانی عاشقِ خدا

توحید، اسلام کا بلند ترین عقیدہ ہے۔ توحید کا مطلب ہے خدا وند متعال پر عقیدہ رکھنا اور طاغوت کا انکار کرنا ہے توحید کے اس معنی کو سورہ نحل کی آیت نمبر 36 میں بھی اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے۔ ہمارے نبی اکرم (ص) نے ہر چیز توحید پر قربان کردی اپنی ہر چیز پر توحید کو مقدم رکھا اسی طرح جب مکتب امام خمینی (رح) کا ذکر ہوتا ہے تو یہ مکتب، مکتب امام حسین علیہ السلام کے مکتب سے اخذ تھا اور شھید سردار حاجی سلیمانی اسی مکتب کے شاگرد تھے۔



امام خمینی علیہ الرحمہ ایک interview میں میں فرماتے ہیں : توحید کے سیدھے راستے کے علاؤہ جو کچھ بھی ہے منکرات میں سے ہے۔



اسی نگاہ کے ساتھ حاج قاسم (رح) 2011 میں شہر کرمان کے شہدا کی یاد میں منعقد ہونے والے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: شہید، اصول دین سے حاصل ہونے والے خلوص نیت کے ذریعے اس عظیم مقام تک پہنچتا ہے یعنی ہم کہتے ہیں توحید، تو شہید کے ذہن میں توحید کا تصور اس تصو سے مختلف ہوتا ہے جو ہمارے ذہنوں میں ہے لہذا؛ توحید کا یہی تصور شہید کو اس عظیم رتبہ “شہادت” تک پہنچا دیتا ہے۔



ایک اور مقام پر شہید قاسم سلیمانی فرماتے ہیں کہ: وہ دعائیں جو آپ پڑھتے ہیں جیسے دعا کمیل، دعا سمات، دعا توسل، صحیفہ سجادیہ وغیرہ۔۔۔ یہ عام طور پر توحیدی دعائیں ہیں۔



انہیں پورا یقین تھا قرآن اور دعاوں کی تلاوت انسان کو توحید تک پہنچا دیتی ہے۔



جناب سلیمانی اسی توحید کے بل بوتے پر رضا شاہ، صدام، داعش، امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے اور توکل علی اللہ کرتے ہوئے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے مسلمانوں کی عزت اور آزادی کی خاطر اپنی جان توحید پر قربان کردی۔



جنرل قاسم سلیمانی ہمیشہ دوسروں کو توحید اور خدا سے مضبوط تعلق رکھنے کی دعوت دیا کرتے تھے جس طرح وہ شہید حاج مہدی مغفوری کی بیٹی فاطمہ مغفوری کو ایک خط میں لکھتے ہیں: میری بیٹی! خدا سے تنہائی کرنا تمہارے لئے باعث سکون ہے۔ جو بھی خدا کو پہچان لیتا ہے۔ اس کے دل میں خدا کے لئے ایک خاص چاہت پیدا ہوجاتی ہے۔ گناہوں سے دوی اختیار کرلیتا ہے ۔خدا کی معرفت انسان کے راضی اور تسلیم ہونے کا باعث ہوتی ہے۔



جناب سلیمانی خود، خدا سے تنہائی میں راز و نیاز کرتے تھے نماز شب کے پابند تھے سخت ترین جنگی حالات میں بھی نماز شب قضا نہیں کی سجدے میں سر رکھ کر گریہ کرتے تھے۔ ان کے ایک دوست کا کہنا میرے دوست قاسم سلیمانی تہجد کی نماز میں اس اتنا گریہ کرتے کہ ان کی ہچکیاں بند ہوجاتی تھیں۔ توحیدی مکتب میں کمال تک پہنچے ہوئے تھے۔



امام خامنہ ای شہید حاج قاسم سلیمانی کے بارے میں فرماتے ہیں: اپنے عزیز جنرل سلیمانی کو ایک مکتب، ایک رستے، ایک سبق آموز درسگاہ کی نگاہ سے دیکھیں آپ پر شہید سلیمانی کی عظمت واضح ہو جائے گی۔



شہید سلیمانی عاشق خدا تھے۔ ان کی یہ صفت ان کے تمام وجود اور تمام فعالیت میں واضح ہے۔ خدا وند عالم ہمیں شہید سلیمانی کے مکتب کا حقیقی پیروکار بننے کی توفیق عنایت فرمائے۔



جائے نماز شاہد ہے ان کی شہادت پر



ان کا کام دعا، گریہ اور امّن یجیب تھا


نظری برای این مطلب ثبت نشده است.

رائے

ارسال نظر برای این مطلب