مواد

ایرانی نظام حکومت کی حمایت میں بین الاقوامی سطح پر ریفرنڈم


Jan 12 2021
ایرانی نظام حکومت کی حمایت میں بین الاقوامی سطح پر ریفرنڈم
 
بغداد ائیرپورٹ پر امریکی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے شہداء کی تشییع جنازہ شروع ہونے سے پہلے کے مناظر اور تشییع میں حاضر ہونے والے دسیوں لاکھ افراد کے اجتماع کو پوری دنیا میں نشر  کیا۔
 سی این این، رشیا ٹوڈے اور العربیہ جیسے بین الاقوامی چینلوں نے تشییع جناہ کے مناظر دکھائے اور  اس کو امام خمینی کے بعد دوسری بڑی تشییع جنازہ قرار دیا۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی اس موقع پر خبریں نشر کیں۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ جنرل سلیمانی کی تشییع جنازہ میں کئی ملین لوگ شریک ہوئے۔گذشتہ 25 سالوں میں ایسا نظارہ دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔[1]
عراق کے بعد ایران کے کئی بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پرشہداء کی  تشییع ہوئی جس میں مختلف ممالک کے لوگوں نے شرکت کی۔ اس تشییع کے بعد عوام میں بیداری کی نئی لہر دوڑ گئی جو بین الاقوامی سطح پر ایران میں انقلاب اسلامی کی حمایت کے لئے ریفرنڈم کی شکل اختیار کرگئی۔ بیداری کی اس تحریک کو  امریکی غیرذمہ دارانہ رویے کے خلاف عوامی اعتراض قرار دیا گیا۔ امریکہ کی جانب سے ایران کو ایک خطرے کے طور پر پیش کرنے والی کھوکھلی پالیسی سے عالمی برادری مزید واقف ہوگئی۔ دنیا پر واضح ہوگئی کہ ایران کا نظام اور حکومت عوام کی بھرپور حمایت اور رضامندی سے قائم ہے۔
اس موقع پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سیکورٹی کے حوالے انتہائی حساس امریکی شخصیت دوسرے ملک کی دہشت گردی کا شکار ہوجائے تو کیا دوسرے ممالک کے لوگ تشییع میں شرکت کرتے؟
حقیقت میں جنرل سلیمانی کی تشییع جنازہ ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی ۔  بین الاقوامی برادری نے واشنگٹن کی جنگ پر مبنی پالیسی اور امریکی حکام کی بدمعاشی کو  مشاہدہ کرلیا۔ اس واقعے کےبعد  دنیا پر یہ حقیقت واضح ہوگئی  کہ امریکہ  عالمی امن کے لئے بڑا خطرہ ہے۔
 








نظری برای این مطلب ثبت نشده است.

رائے

ارسال نظر برای این مطلب