مواد

عالمی تیل کمپنی آرامکو بھی متاثر


Jan 18 2021
عالمی تیل کمپنی آرامکو بھی متاثر
جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کے بعد عالمی مارکیٹ میں سعودی عرب کی بڑی تیل کمپنی آرامکو متاثر ہوئی ہے۔ آرامکو کے حصص میں کمی سے غیرملکی سرمایہ کاروں کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔  حملے کے فورا بعد سعودی ولی عہد کے معاون خالد بن سلمان خطے کی صورتحال پر گفتگو کرنے کے لئے امریکہ اور برطانیہ کے سفر پر روانہ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے خطے میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کے لئے صبر و تحمل سے کام لینے کی تاکید کی۔ آل سعود خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا کوئی بھی ضائع نہیں کرتا تھا۔ مقاومتی بلاک کو نقصان پہنچانے کا یہ نادر موقع ملا ہے چنانچہ جنرل سلیمانی پر حملے سے پہلے سعودی میڈیا امریکہ کے ساتھ مل کر پروپیگنڈا کررہا تھا۔ حقیقت میں سعودی  حکام امریکہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے  مقاومت اور اس کے سربراہوں کے ساتھ دشمنی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اس دشمنی کے بھیانک نتائج قبول کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہیں۔ آرامکو کے حصص میں کمی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ سعودی حکام بحرانی لمحات میں فوری طور پر شکست کھاتے ہیں اور حساس مواقع پر مزید خفت سے بچنے کے لئے مغربی آقاوں کی پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایک طرف جنرل سلیمانی پر حملہ کرتے وقت اعتماد میں نہ لینے کا واویلا کرتے ہیں اور دوسری طرف سعودی پروپیگنڈا مشین کا رخ مقاومتی بلاک کے رہنماوں کی طرف کیا جاتا ہے۔


نظری برای این مطلب ثبت نشده است.

رائے

ارسال نظر برای این مطلب