مواد

داعش کی نابودی تک کمانڈ


Jan 03 2021
داعش کی نابودی تک کمانڈ
جنرل قاسم سلیمانی  عراق اور شام میں داعش کے خلاف  جنگ کے کمانڈروں میں سے ایک ہیں۔ داعش ایک سلفی گروپ تھا جو عراق میں صدام کے خاتمے اور خطے میں طاقت کی خلاء سے وجود میں آیا۔ ایران نے خطے میں سلامتی اور کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے اس گروپ سے لڑنا شروع کیا۔ مغرب کی نئی سازش اور سعودی عرب جیسے ممالک کی مالی مدد سے کہ جس کی وجہ سے خطے میں داعش اور جبہۃ النصرۃ  سمیت  تکفیری دہشت گرد  گروہوں کا قیام  عمل میں آیا،  قاسم سلیمانی  کو  شامی اور عراقی دونوں  حکومتوں کی سرکاری درخواست پر    ایک نیا میدان(مشن، محاذ)   ملا  اور وہ عراق  اور شام دونوں ممالک میں ان خطرات کا مقابلہ تھا۔  عراق میں انہوں نے ” حشد الشعبی” اور شام میں” عوامی رضا کار فوج”  تشکیل دی، ان کی مدد اور قدس فورس  کی رہنمائی اور مشورت سے  چھ سالوں کے دوران ، ان دونوں ممالک  سے تقریباً  دہشت گرد گروہوں کے بستر گول ہو گئے۔انہوں نے ان دونوں ممالک میں جا کر  دمشق اور بغداد کے زوال کو روکا۔ اور  ماسکو کا سفر کر کے روس اور پوتن کو شام کے میدان جنگ میں لانے میں نمایاں کردار ادا  کرنے والے بھی وہی تھے۔ شائد شام کے خاتمے کے لئے دشمنوں کا ایک اہم مقصد ایران اور حزب اللہ لبنان کےمابین تعلقات کو توڑنا تھا۔لیکن داعش کی شکست اور شام و عراق  میں قدس فورس کے اہم  کردار سے   مزاحمتی نامی ایک مضبوط حلقہ تشکیل پایا اور اس نے ایران، عراق، شام ، لبنان اور فلسطین کے مابین مزاحمتی زنجیر کو مزید استحکام بخشا۔اس میں کوئی شک نہیں  ہے کہ  یہ مسئلہ  امریکا اور اسرائیل  کے مقصد  کے خلاف ہے لیکن  شام اور عراق میں میدان جنگ میں قاسم سلیمانی کے حکم سے  عوامی رضاکاروں  کی فوج کی تشکیل  سے یہ مسئلہ حقیقت میں تبدیل ہو گیا  اوراس مسئلہ نے  پاسداران، فاطمیون، زینبیون اور حیدریون  وغیرہ وغیرہ کے درمیان اتحاد پیدا کر دیا۔   خطے کو سنبھالنے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے میں جنرل قاسم سلیمانی کے ناقابل فراموش  کردار نے انہیں “گھوسٹ  کمانڈر”، ” مشرق وسطیٰ کا سب سے طاقتور شخص” اور ” اسرائیل کا ڈراؤنا خواب” جیسے القاب کے قابل بنایا  جو  امریکیوں  اور اسرائیلیوں کی طرف سے انہیں دئے گئے تھے۔


نظری برای این مطلب ثبت نشده است.

رائے

ارسال نظر برای این مطلب