مواد

قدس فورس اور میجر جنرل کا عہدہ


Jan 02 2021
قدس فورس اور میجر جنرل کا عہدہ
جنرل قاسم سلیمانی کے بہت سے جنگی ساتھیوں کے لئے ۱۳۶۷ھ،شمسی کا گرمیوں کا موسم جنگ کے ختم ہو جانے کا موسم تھا لیکن ان کے لئے جنگی میدانوں میں ایک نئے دور کا آغاز تھا۔۱۳۶۷ھ، شمسی میں ایران ۔ عراق جنگ کے خاتمے کے بعد وہ کرمان واپس آئے اور مشرقی سرحدوں پر جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کے خلاف لڑے۔ ۱۳۷۹ھ،شمسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے رہنما حضرت آیت اللہ خامنہ ای دام ظلّہ کی جانب سے انہیں قدس فورس کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔
قدس فورس پر قاسم سلیمانی کی کمانڈ کی درخشاں اور نمایاں خوبیوں میں لبنانی حزب اللہ اور فلسطینی عسکریت پسند گروپوں کی مضبوطی بھی شامل ہے کہ جس کا مشاہدہ ،متعدد جنگوں منجملہ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے مابین ۳۳ روزہ جنگ اور جدید ہتھیاروں سے لیس اسرائیلی فوج کے خلاف غزہ کی ۲۲ روزہ جنگ میں فلسطینی جنگجوؤں کی کامیابی میں ہم نے واضح طور پرکیا۔انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے خاص طور پر اسلامی بیداری کے نام سے مشہور علاقائی بدامنی میں، کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ان کی حکمت عملی سے اسلامی جمہوریہ ایران نے عراق ،شام اور یمن میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ ۱۳۸۹ھ، شمسی میں مسلح افواج کے سپریم کمانڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای دام ظلّہ کے فرمان کے مطابق انہیں ترقی دے کر میجر جنرل کے عہدے پر فائز کیا گیا، لیکن عوامی سطح پر انہیں اب بھی “حاج قاسم” کہا جاتا ہے۔


نظری برای این مطلب ثبت نشده است.

رائے

ارسال نظر برای این مطلب