مواد

جنرل سلیمانی کا قتل بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور اخلاقیات کی صریح خلاف ورزی تھی


Apr 15 2023
جنرل سلیمانی کا قتل بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور اخلاقیات کی صریح خلاف ورزی تھی

تین سال قبل 3 جنوری کی صبح سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی اپنے ساتھی ابو مہدی المہندس اور ان کے کئی ساتھیوں کیساتھ امریکی ڈرون کے ذریعے بغداد کے ہوائی اڈے پر نشانہ بنے تھے۔  حملے کے فوراً بعد اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشتگردی کی اس کارروائی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا اور اس حملے کا حکم دینے اور اس کی کمانڈ کرنے کا اعتراف کیا۔ اس رات جنرل سلیمانی کو کچھ عراقی حکام سے ملاقات اور خطے میں جاری واقعات کے بارے میں بات چیت کرنا تھی۔ اس وفد نے عراق کے وزیراعظم سے ملاقات کیلئے سرکاری دعوت پر عراق کا سفر کیا۔ جنرل سلیمانی کا قتل، نہ صرف فوج کے ایک اعلیٰ سرکاری فوجی عہدیدار کیخلاف ریاستی دہشتگردی کا ارتکاب تھا بلکہ ایک آزاد ملک کی افواج کیخلاف دہشتگردی، بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور جارحیت تھی۔ اس کے علاوہ، یہ ایک خطرناک چال تھی، جو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایک کامیاب کمانڈر کو ختم کرنے کیساتھ ساتھ دہشتگردی کے حملے سے پیدا ہونیوالے دیگر نتائج سے پورے خطے میں امن و سلامتی کو منفی طور پر متاثر کرسکتی ہے۔



ایک اور نقطہ نظر میں، دہشتگردی کی یہ کارروائی عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے دو  ارکان کیخلاف جارحانہ کارروائی کے مترادف تھی۔ اس سال اس بہادر ہیرو کے قتل کی تیسری برسی ہے۔ یہ صرف تین سال پہلے کی بات ہے، جب جنرل سلیمانی نے باضابطہ طور پر داعش کے خاتمے کا اعلان کیا اور ان کا یہ خواب اس وقت پورا ہوا، جب اس وقت یہ دہشتگرد گروہ مکمل طور پر کمزور اور خاتمے کے دہانے پر تھا۔ شہید قاسم سلیمانی نے انتہاء پسندی اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں جس بہادری کا مظاہرہ کیا، اس نے خطے میں داعش کا خاتمہ کر دیا بلکہ اس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کے پہلے سے ہی جنگ زدہ علاقہ بلکہ تمام ممالک بشمول امریکہ اور یورپ سمیت پوری دنیا کو امن و سلامتی عطا کی۔ سلیمانی نے داعش کے بحران پر ایسے حالات میں ردعمل کا اظہار کیا، جب پورا خطہ پہلے ہی داعش کے اس ظالم دہشتگرد گروہ کی لپیٹ میں آچکا تھا، جس کے نتیجے میں کچھ ممالک ٹوٹنے کے قریب تھے۔



بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر سلیمانی نے انتہاء پسندی اور دہشتگردی کیخلاف اقدام کو متحرک نہ کیا ہوتا تو خطے کا نقشہ آج مختلف ہوتا۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں کی کمان سنبھالی، جب داعش نے اسلامی خلافت کا اعلان کیا اور شہریوں اور فوجوں کیخلاف انسانی تاریخ کے سب سے گھناؤنے اور بے مثال جرائم کا ارتکاب کیا۔ یہاں ایک متضاد صورتحال سامنے آتی ہے، جہاں مختلف حالات میں داعش اور بعض دیگر دہشتگرد گروہوں کا پیدا ہونا امریکی ہتھکنڈوں کا پتہ دیتا ہے۔ ISIS کی اصلیت کے حوالے سے انتخابی کمپین میں دوسروں کے علاوہ ٹرمپ کے اعترافات اس کی واضح مثال ہیں۔ شہید سلیمانی دہشتگردی کیخلاف ایک معروف ہیرو تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی دہشت گردی اور جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے وقف کر رکھی تھی۔ تو معاملہ کیا ہے؟ ٹرمپ: ہم نے داعش کو بنایا۔ اس کے بعد، اسی ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر جنرل سلیمانی پر حملے کا حکم دیا تھا۔ اس کا جواب امریکہ کے دوہرے معیار کی سیاست میں مل سکتا ہے۔ جنرل سلیمانی کا قتل بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور اخلاقیات کی صریح خلاف ورزی تھی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مجرموں کو بین الاقوامی سطح پر اس کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہیئے۔



بہت سے قانون دان، سفارتکار، سیاستدان اور بین الاقوامی قانون کے ماہرین واضح کرتے ہیں کہ کسی ملک کے اعلیٰ فوجی عہدیدار کا غیر قانونی قتل پورے خطے اور دنیا کے امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ کیونکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ کا طویل تجربہ رکھنے والے قابل کمانڈروں کی عدم موجودگی کے باعث خطے میں داعش جیسے شدت پسند گروہوں کے دوبارہ سر اٹھانے کی تشویق پائی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ اس کیخلاف دہشتگردانہ حملہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی اور دوسرے ملک کی خودمختاری کیخلاف جارحیت اور ریاستی دہشتگردی کی واضح مثالوں میں سے ایک مثال سمجھی جاتی ہے، جس کا ارتکاب ایک ملک دوسرے کیخلاف کرتا ہے اور اسے باضابطہ طور پر ملک کے اعلیٰ عہدے داروں اور کیمروں کے سامنے مجرم کے اعتراف کے ذریعے قبول کیا جاتا ہے۔



تین سال گزر چکے ہیں اور اب بہت سے لوگ “سلیمانی سکول آف تھاٹ” کے بارے میں بات کرتے ہیں، وہ اس وقت ایک مقبول کمانڈر تھے اور اس وقت تاریخ سے ماورا ایک لیجنڈ شخصیت ہیں۔ ان کے حامی ان کے قتل کو اس کی کہانی کا عروج اور اس کی سرشار زندگی کا ایک ناگزیر انجام اور ہدف سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی شہادت ان لوگوں کیلئے زیادہ تباہ کن ہے، جن کیخلاف وہ لڑے اور ان لوگوں کیلئے جو ان سے محبت کرتے تھے، ان کی زندگی سے زیادہ متاثر کن ہے۔ ایک مخیر، سماجی اور شہری کارکن ہونے کے ناطے خاص طور پر ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اور مختلف خطوں میں غربت، سیلاب اور زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی مدد کرنے کیلئے، وہ واقعی بہت سے لوگوں کے یہاں تک کہ ان کے ناقدین کی طرف سے بھی پسند کیے گئے۔ جنازے کی تقریبات میں لوگوں کا بے ساختہ امڈ آنا اس دعوے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ انسانوں کیلئے کام کرنے کیلئے پُرعزم تھے۔



وہ نسل، مذہب، قومیت اور طرز زندگی سے بالاتر ہو کر انسانی وقار اور لوگوں کی بہتری اور فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کے لیے پرعزم تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں، وہ خواتین کی کوریج کے حوالے سے مختلف طرز زندگی کا سامنا کرنے والوں کو سختی سے مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں اور ہمارے انسانی وسائل ہیں۔ تین سال قبل انہیں دوسرے ملک میں بے دردی اور بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ وقت اور تاریخ انسانی ذہن کی عدالت کے بہترین استاد اور بہترین گواہ ہیں۔ ایرانی حکام نے وعدہ کیا کہ اس جرم کے ذمہ داروں کو کھلا نہیں چھوڑا جائے گا اور اس غیر انسانی جرم کے مرتکب افراد اور معاونین نے کو انصاف کی منصفانہ عدالت میں لایا جائے گا۔ تاہم، اس وقت کے امریکی صدر کے اس گھناؤنے دہشت گردانہ اقدام کی سیاست دانوں، وکلا، ماہرین تعلیم اور رائے عامہ سمیت بہت سے لوگوں نے بڑے پیمانے پر مذمت کی تھی۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی سیاسی، قانونی اور بین الاقوامی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ملزمان اور مجرموں کیخلاف منصفانہ کارروائی کرے گا۔



گذشتہ دہائیوں کے دوران دشمنی، دہشتگردی اور شہریوں کا قتل دو عظیم اقوام ایران اور پاکستان کا مشترکہ درد رہا ہے۔ دونوں ممالک اس دکھ سے دوچار ہوئے ہیں اور کئی خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوچکے ہیں۔ ایران اور پاکستان کی طرح کوئی بھی قوم دہشتگردی کے طاعون کو نہیں سمجھتی۔ ان دونوں مسلم ممالک کے عوام دہشتگردی کی تباہ کاریوں اور تشویش کو محسوس کرتے ہیں اور اس راہ پر قوموں کے نوجوانوں کا بہت سا پاک خون بہا ہے۔ دونوں برادر ممالک ایران اور پاکستان میں اب تک بہت سے شہداء نے اپنی زندگیاں وقف کیں اور امن و سلامتی کے مقدس مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ موجودہ خطرے کی صورتحال جو ہم دیکھ رہے ہیں، اور اس تباہ کن امکان کیساتھ جو خطے میں بڑے پیمانے پر پھیل رہا ہے، عالم اسلام کو ایک متفقہ طرز عمل کیساتھ قدم اٹھانا چاہیئے اور اپنی غلط فہمیوں کو ایک طرف رکھ کر، جن میں زیادہ تر غیر ملکیوں کی طرف سے پھیلائیں ہوئی ہے، امن اور سلامتی کو برقرار رکھنا چاہیئے۔ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، اس خطے سے مقامی امن اور سلامتی کا آغاز کیا جائے۔







تحریر: سید محمد علی حسینی(پاکستان میں ایران کے سفیر)


نظری برای این مطلب ثبت نشده است.

رائے

ارسال نظر برای این مطلب