مواد

اصول گرا اور اصلاح پسندوں کے مابین مقابلہ میں حاج قاسم کی وصیّت


Jan 05 2021
اصول گرا اور اصلاح پسندوں کے مابین مقابلہ میں حاج قاسم کی وصیّت
میں اپنے آپ کو اصلاح پسند اور اصوگرا کہلانے والی ملک کی دونوں پارٹیوں کے سیاستدانوں کے سامنے ایک مختصر سا نکتہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ جس چیز سے میں ہمیشہ رنجیدہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ  عمومی طور پر ہم دو مرحلوں میں، خدا ور قرآن اور اقدار کو فراموشی کے حوالے کرد یتے ہیں بلکہ فدا کر دیتے ہیں!اے عزیزو!   جو مقابلہ بھی ایک دوسرے سے کر رہے ہو، آپ کا آپسی جو بھی بحث و جھگڑا ہے،  اگر آپ کے اعمال اور آپ کے الفاظ یا آپ کی بحث مباحثے کسی طرح سےدین  اور  انقلاب  کو کمزور کررہے ہیں تو جان لیں کہ پیغمبراسلامؐ   اور اس راستے کے شہداء آپ سے  ناراض ہیں۔حدود الگ کریں ، اگر ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو ایک ساتھ رہنے کی شرط یہ ہے کہ اصولوں کے بارے میں اتفاق رائے اور واضح اظہار کیا جائے۔
پہلی اصل:
ولایت فقیہ کا عملی عقیدہ۔ ان  (رہبر معظم انقلاب ) کی نصیحتوں کو سنیں ، دل و جان سے ایک حقیقی اور سائنسی ڈاکٹر کی حیثیت سے ان  کے مشوروں اور یاد دہانیوں پر عمل کریں۔
دوسری اصل:
اسلامی جمہوریہ  اور اس کی بنیادوں پر حقیقی اعتقاد رکھنا۔ اخلاق اور اقدار سے لے کر ذمہ داریوں تک۔چاہے وہ ذمہ داری قوم کے سامنے ہو یا اسلام کے سامنے۔
تیسری اصل:
آپ اپنی حکومت کے دور اور کسی بھی ذمہ داری میں جو آپ کو سونپی گئی ہے، لوگوں کے  احترام اور ان کی خدمت کو عبادت سمجھیں۔ ایک سچے خادم  اور اقدار کو  وسعت بخشنے والے بنیں،بیہودہ بیان بازی سے  اقدار کا بائکاٹ نہ کریں۔
چوتھی اصل:
ایماندار، معتقد اور قوم کی خدمت کرنے  لوگوں کو  عہدہ پر فائز کریں، نہ وہ افراد جو  حتی اگر ایک دیہات  کا عہدہ سنبھالیں تو سابق خانوں کی یاد دلا دیں۔
پانچویں اصل:
فسادو  بدعنوانی کا مقابلہ کریں  اور فسادو بد عنوانی  اور ظاہری فخر فروشی و آسائشوں سے دوری  کو اپنا  شیوہ بنا لیں۔


نظری برای این مطلب ثبت نشده است.

رائے

ارسال نظر برای این مطلب