مواد

استعمار کی بوکھلاٹ سے لگتا ہے کہ آنیوالا بھی شیر ہے


Jan 19 2021
استعمار کی بوکھلاٹ سے لگتا ہے کہ آنیوالا بھی شیر ہے
پوری دنیا کی استعماری اور باطل قوتوں میں آخر کھلبلی کیوں ہے، بصرہ و بغداد کا ائیرپورٹ عراق چھوڑنے والے امریکی اور دیگر یورپی باشندوں کی بے بسی اور خوف کی واضح علامت پیش کر رہا تھا، جہاں سے کوئی قطر تو کوئی دبئی نکلنے کی جلدی میں نظر آیا، جبکہ جس کا خوف تھا وہ راہی تو اس دنیا سے جا چکا، تو اس کی واضح صورت یہی ہے کہ رہبر مسلمین جہاں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جس کمانڈر کو یہ ذمہ داری سونپی ہے، وہ بھی اسی مرد جری کا تیار کیا ہوا ہے، جسے شہید قاسم سلیمانی کی تدفین ہونے سے پہلے ہی منتخب کر دیا گیا ہے۔ ہر نئے آنے والے کمانڈر کو عالی قیادت کی طرف سے ہدایات جاری کی جاتی ہیں، لیکن یہاں صرف یہ کہا گیا ہے کہ سردار قاسم سلیمانی کے کام کو آگے بڑھایا جائے، یعنی آنے والا بھی شیر ہے اور تمام تر جنگی چالوں سے بخوبی واقف ہے۔
 
ایران آرمی کے اسٹریٹیجک اسٹڈی کے سربراہ جنرل پوردستانی کا بیان: امریکا نے اب تک 16 ممالک کو واسطہ بنایا ہے کہ ایران جوابی کارروائی نہ کرے اور اگر کرے بھی تو کسی ایک امریکی بڑے عہدے دار کو نشانہ بنائے، اس سے زیادہ کارروائی نہ کرے، مجرم کی طرف سے دنیا والوں کو بن مانگے وضاحتیں دینا اور الٹا پروپیگنڈا کرنا کہ جنرل قاسم سلیمانی اور کمانڈر مہدی المہندس ہزاروں امریکن کے قاتل تھے، یہ قتل کب اور کہاں ہوئے ہیں اور داعش کے فتنے سے انسانیت کو محفوظ کرنے والوں کا ہی آخر امریکہ کی بربریت کا شکار ہو جانا آنکھوں میں روشنائی رکھنے والوں کیلئے واضح ہیغام ہے۔
 
میری نظر اس وقت عراق پر لگی ہوئی ہے، جب کوئی کسی شجاع مہمان کو اپنے گھر بلاتا ہے کہ آؤ ہمیں داعش جیسے خونخوار وحشی بھیڑیوں سے بچاؤ، ہمارا پورا سماج جس میں شیعہ، سنی، کرد، ایزدی اور عیسائی سب کی جان و مال اور عزتوں کو خطرہ ہے اور وہ باغیرت، مرد شجاع گھر والوں کی طرف سے بار بار اصرار پر وہاں پہنچ کر عراقی سماج اور مقدس مقامات کو محفوظ کرنے کی کامیاب کوشش کرتا ہے اور آخرکار وہی انسان جب اپنا عظیم مشن پورا کرچکا ہوتا ہے تو اسے اسی گھر میں بن بلائے بیٹھے ایک دوسرے قبیح شخص کی طرف سے میزبان سمیت قتل کر دیا جاتا ہے تو یہاں پر امتحان ایران کا نہیں، امتحان عراقی بزرگان، عراقی سیاستدانوں، عراق کے تمام قومی طبقات اور عراقی فورسز کا کردار کیا سامنے آتا ہے۔
 
آج کا عراقی پارلیمنٹ کا اجلاس انتہائی اہم ہے، جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ امریکی فورسز کا وجود یہاں پر ہو یا نہیں، اسی سے امریکہ کے خلاف حقیقی بدلے اور زوال کا آغاز ہو جائے گا، اسی تناظر میں حشد الشعبی نے یہ بیان جاری کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ عراقی عوام امام حسین علیہ السلام اور امریکہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ باقی رہا سوال ایران کا، وہ اپنے دائرہ کار اور طاقت کو بخوبی جانتا ہے، دوست دشمن کی پہچان اور حالات و واقعات پر جس تحمل مزاجی کے ساتھ وہ حلیم مگر شجاع قیادت نظر رکھتی ہے، اس سے بھی دنیا واقف ہے اور ان کے انتہائی اہم عہدہ دار اسپیکر ڈاکٹر لاریجانی نے انتقام کیلئے ایک بنیادی نقطہ اٹھایا ہے کہ “امریکی وجود کا مشرق وسطیٰ سے اخراج بس۔”
 
ایران تو قرآنی مفہوم پر عمل پیرا ہے، جو لوگ امریکہ کی جدید عسکری اور معاشی طاقت کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں، وہ ان چند حقائق پر بھی ضرور نظر رکھیں، ابرہا کے ہاتھی زیادہ طاقتور تھے یا ننھی سی جان والے ابابیل کی چونچوں سے گرنے والے باریک پتھر۔ ویت نام پر حملہ آور جنایت کار امریکہ کے جدید عسکری ونگز طاقتور تھے یا ہاتھوں میں لکڑی کے ڈنڈوں پر لوہے کے کیل لگا کر مقابلہ کرنے والے کمزور ویتنامی باغیرت باشندے۔ انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ میں عسکری اور عددی پہلوؤں سے اکثریت پر مبنی دشمن یا جذبہ شہادت اور وطن کی محبت سے سرشار نہتے جوان۔ تینتیس روزہ حزب اللہ اسرائیل جنگ، جس میں جنوبی لبنان پر جنگ عظیم دوم سے زیادہ بارود کی بارش کی گئی، لیکن خدا پر توکل کرنے والا ایک گروہ باقاعدہ آرمی کیلئے ذلت کی علامت بن جاتا ہے۔


نظری برای این مطلب ثبت نشده است.

رائے

ارسال نظر برای این مطلب